Urdu Stories/ News - اردو کہانیاں

یہودیوں کا بندر بننا

:یہودیوں کا بندر بننا

 یہودیوں کا بندر بننا کیا ہے؟ اسلام میں جمعہ والے دن کو بہت عزت دی جاتی ہے۔ اور عیسائی اتوار کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ہندوں کے لیے منگل اور یہودیوں کے لیے ہفتے کا دن بہت محترم دن ہے۔مگر فرق صرف اتنا ہے کہ, ان لوگوں پر جن پر جمعہ کی نماز فرض ہےجمعہ کی پہلی اذان سے لے کر ختم نماز تک تمام کاروبار کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔

مسافر،عورتیں،بچے اور بیمار لوگ اس حکم کی وجہ سے علادہ ہیں کیونکہ ان پر جمعہ فرض نہیں۔ لیکن یہودیوں اور عیسایوں کے ہاں ان سارے دنوں میں کام کرنا حرام تھا اور شکار کرنا تو سخت جرم تھا۔

یہودیوں-کا-بندر-بننا

:واقعہ

موسی علیہ اسلام کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت بحرقلزم کے کنارے شہرایلہ میں رہتی تھی۔یہ مدینہ منورہ کے درمیان واقعہ ہے۔ ان لوگوں کو مچھلی بہت پسند تھی۔ رب کی شان یہ ہے کے اس دریا میں مچھلیاں بہت ہوتی تھیں۔

ان کے امتحان کے لیے یا ان کی زیارت کے لیے جس کے پیٹ میں حضرت یونس رہتے تھے۔ باقی دنوں میں سب مچھلیاں غائب ہو جاتی تھیں۔ ان کے منہ میں پانی بھر آیا اور سوچنے لگے کہ ان کا شکار کیسے کرنا چاہیے جس سے شکار بھی ہو جاَے اور ہفتے کے دن کی بے حرمتی بھی نہ ہو۔

آخر انوں نے سوچا کہ دریا کے ارد گرد گڑا اور نالیاں بنا دیں۔ اور جمعہ کی شام کو نالیوں کا منہ کھول دیتے تھے کہ مچھلیاں ان گڑوں میں آجایں۔ اور اتوار کو پکڑ لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ہفتے والے دن شکار نہیں کرتے۔

انوں نے مچھلیاں فروخت کیں اور مالدار بن گیے۔ لیکن اپنے مزہب کو ایسے ہی دوکھے دیتے رہے۔آخر حضرت داود علیہ اسلام نے یہ دعا فرمائی کہ رب کا غضب ہوا کہ سب کے سب بندر بن گیے۔ان میں جو لوگ جوان تھے وہ بندر بن گیے اور بوڑھے سور بن گیے۔

اب یہ مشہور ہے کہ موجودہ بندر ان ہی کی نسل میں سے ہیں۔ اور مسخ شدہ قوم تین دن سے زیادہ نہ زندہ رہتی ہے نہ کھاتی ہے نہ پیتی ہے اور نہ ہی ان کی نسل چلتی ہے۔

Leave a Reply