13.7 C
Pakistan
Monday, January 24, 2022
Homesocialthinkبچہ جو ایک بینک کا مالک ہے

بچہ جو ایک بینک کا مالک ہے

دنیا کا سب سے چھوٹا بینک کا مالک

ایک ایسا لڑکا جو صرف بارہ سال کا ہے اور ایک بینک کا مالک ہے۔ اس نےبہت ہی کم عمر میں ایک بینک بنایا۔ جو کے ایک نا ممکن سی بات تھی۔ اس لڑکا جس کا نام” جوسے” ہے اور یہ پیرو کا رہنے والا ہے اس نے 7 سال کی عمر سے مہسوس کیا کے بچے 1 ڈالر کو ایسی چیزوں پہ خرچ کر دیتے ہیں جو کے جس سے ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ِیہ لڑکا سوچتا تھا کے یہ ایک بہت بڑا مسلہ ہے۔ کہ بچے اپنے پیسے ضائع کر رہے ہیں۔ بارہ سال کی عمر می اس نے فیصلہ کیا اور اس نے ایک بینک بنایا اور ایک مالیاتی ادارہ شروع کیا۔

اس نے ڈیبٹ کارڈ بناے اور اپنی کلاس میں پڑہنے والوں کو دیے۔ اور اس میں سیونگ اکاوہنٹ کا آپشن رکھا۔ اس طرح یہ دنیا کا پہلا ایسا بینک بنا جس کی بنیاد بچوں نے رکھی۔ اورتھوڑے ہی وقت میں یہ بینک چل پڑا۔ اس وقت اس بینک کے تین ہزار سے بھی زیادہ کسٹمرز ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آٹھ لوگ اس بینک میں کام کرتے ہیں۔ اس وقت یہ لوگ پچاس ہزار ڈالر سے زیادہ کی رکم کو جمع کر چکے ہیں۔ اور اس کے علاوہ ہزاروں لوگوں کو سکھا چکے ہیں کے پیسوں کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے مزےکی بات یہ کے اس بینک میں اکاونٹ کھولنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ اس نے ایک سسٹم رکھا ہے کے کوئی بھی بچا بوتلیں / ردی کو لے کر آے اور اس کو ری سائیکل کر کے اس کے اکاونٹ میں پیسے ڈال دیے جائیں گے۔ اس طرح سے یہ بچے پیسے بھی کما سکتے ہیں اور ماحول بھی صاف رہے گا۔ اس بچے نے بہت سارے اوارڈ بھی جیتے ہیں اپنے کام کی وجہ سے۔

RELATED ARTICLES

Leave a Reply

Most Popular

Recent Comments

AL jaleel on Surah Yaseen
Finch http://lentainform.comFinch on How to find PTCL bill account ID
Sayedi Mhlongo on Surah Yaseen
Shiyan on Surah Yaseen
admin on Surah Yaseen
syed wasi on Surah Yaseen

دنیا کا سب سے چھوٹا بینک کا مالک

ایک ایسا لڑکا جو صرف بارہ سال کا ہے اور ایک بینک کا مالک ہے۔ اس نےبہت ہی کم عمر میں ایک بینک بنایا۔ جو کے ایک نا ممکن سی بات تھی۔ اس لڑکا جس کا نام" جوسے" ہے اور یہ پیرو کا رہنے والا ہے اس نے 7 سال کی عمر سے مہسوس کیا کے بچے 1 ڈالر کو ایسی چیزوں پہ خرچ کر دیتے ہیں جو کے جس سے ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ِیہ لڑکا سوچتا تھا کے یہ ایک بہت بڑا مسلہ ہے۔ کہ بچے اپنے پیسے ضائع کر رہے ہیں۔ بارہ سال کی عمر می اس نے فیصلہ کیا اور اس نے ایک بینک بنایا اور ایک مالیاتی ادارہ شروع کیا۔

اس نے ڈیبٹ کارڈ بناے اور اپنی کلاس میں پڑہنے والوں کو دیے۔ اور اس میں سیونگ اکاوہنٹ کا آپشن رکھا۔ اس طرح یہ دنیا کا پہلا ایسا بینک بنا جس کی بنیاد بچوں نے رکھی۔ اورتھوڑے ہی وقت میں یہ بینک چل پڑا۔ اس وقت اس بینک کے تین ہزار سے بھی زیادہ کسٹمرز ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آٹھ لوگ اس بینک میں کام کرتے ہیں۔ اس وقت یہ لوگ پچاس ہزار ڈالر سے زیادہ کی رکم کو جمع کر چکے ہیں۔ اور اس کے علاوہ ہزاروں لوگوں کو سکھا چکے ہیں کے پیسوں کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے مزےکی بات یہ کے اس بینک میں اکاونٹ کھولنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ اس نے ایک سسٹم رکھا ہے کے کوئی بھی بچا بوتلیں / ردی کو لے کر آے اور اس کو ری سائیکل کر کے اس کے اکاونٹ میں پیسے ڈال دیے جائیں گے۔ اس طرح سے یہ بچے پیسے بھی کما سکتے ہیں اور ماحول بھی صاف رہے گا۔ اس بچے نے بہت سارے اوارڈ بھی جیتے ہیں اپنے کام کی وجہ سے۔