منکر اور نکیر

عربی میں منکر اور نكيراور انگریزی کے  ترجمہ میں The Denied and the Denier اور اسلامی تشہیر میں. ، فرشتے ہیں جو کہ اپنی قبروں میں مرنے والے انسانوں کے ایمان کی جانچ کرنے کے لیے آتے ہیں۔

 

منکر نکیر کی ساخت

منکر نکیر فرشتوں کے بارے میں بیان جاتا ہے. کہ ان کی دونوں آنکھیں ٹھوس کالی ہوتی ہیں ،اور کندھے کا لمبا لمبا فاصلہ طے کر کے. اور اتنے بڑے بڑے ہتھوڑے لے کر آتے ہیں.  کہ اگر ساری انسانیت نے ان کو ایک انچ بھی نقل کرنے کی کوشش کی تو وہ ناکام ہوجائے گا ۔ جب وہ بولتے ہیں تو ان کے منہ میں سے آگ کی زبانیں باہر آتی ہیں۔ اوراگر کوئی ان کے سوالات کا غلط جواب دیتے ہیں تو. ہر ایک کو بہت مارا پیٹا جاتا ہے. دوسرے جمعہ کے دن تک مار پڑتی ہے. جب تک کہ اللہ اس مار کو روکنے کی اجازت نہ دے دیں۔

 

 منکر نکیر کی قبر میں پوچھ گچھ

ہم مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ ایک شخص کے مرنے کے بعد. اس کی روح برزخ نامی ایک مرحلے میں سے گذرتی ہے. کہ جہاں یہ قبر میں بھی موجود ہے. جب جنازہ اور اس کی تدفین ختم ہو گی ہوتی ہے تو پوچھ گچھ شروع ہو جاتی. منکراور نیکر مرحوم کی جان کو سیدھے قبر میں لے جا پیش کرتے ہیں.

اور تین بڑے. سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ..
تمہارا رب کون ہے؟
تیرا دین کیا ہے؟
آپ کا کیا عقیدہ ہے؟

جب انسان ایک نیک مومن صحیح جواب دے گا. یہ کہتے ہوئے کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے. اور کہ محمد ان کے نبی ہے اور میرا دین اسلام ہے۔ اگر متوفی صحیح جواب دیتا ہے تو وہ قیامت کے منتظر وقت بہت خوشگوار ہوتا ہے. اور خوشی خوشی جنت میں داخل ہوسکتاہے. مسلمانوں کو یقین یہ ہے کہ ایک شخص موت سےپہلےان جوابات کو یاد کرکے نہیں جواب دے سکے گا. بلکہ وہ اپنے ایمان اورنمازاورشہادت جیسے نیک اعمال کے زریعہ سے ان سوالوں کا صحیح جواب دے سکے گا۔

 

 منکر نکیر کی تاریخ اور ابتداء

منکر اور ناکر زرتشتی تقویت سے بہت زیادہ طور پر مماثلت رکھتےہیں. راشنو کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے. کہ جو قبر کے کچھ فرشتوں کی طرح میزان کا ایک سیٹ رکھتا ہے۔ مر جانے م والوں کی دنیا میں بھی ایک وہی مقام رکھتا ہے. اور اس کے پاس میزان کا ایک سیٹ ہوتا ہے۔

 

منکر نکیر  اور دیوتا

منکر اور ناکر کی طرح ان کی بھی ایک بہت خوف ناک آواز ہے. جو کہ مردوں اور دیوتاؤں میں خوف و ہراس پھیلا سکتی ہے۔ اس نے چمکتی ہوئی پکڑی ہے اور اس کی چلتی سانسیں اپنے دشمنوں کو بھی جلا سکتی ہیں۔ چونکہ اس کا تعلق آگ سے زیادہ ہے. تو وہ زیادہ تر علماء کا مشورہ ہے کہ وہ اصل میں سورج کا دیوتا (رب) تھا۔

 

 منکر نکیر کا قرآن مجید میں ذکر

قرآن مجید میں منکر اورنقیر کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔ ان کے نام حدیث کی روایت میں ترمذی نے پہلے سے ذکر کیا ہے۔ترمذی عراق کا جانا ہوا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے. کہ میسوپوٹیمیا کی اسلامائزیشن کے شروع کے مرحلے میں منکر اور نکیر کے نام سے اسلامی عقائد کے ساتھ متعارف کروائے گئے تھے.

 

Jobs in ministry of Kashmir

Leave a Reply